سان فرانسسکو، 2 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): اوپن اے آئی (OpenAI) نے چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) میں چیٹ اور ورک (Work) کو ایک ہی تجربے میں ضم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے صارفین کو بھیجے گئے ایک ای میل میں بتایا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد صارف ایک ہی جگہ سوال پوچھنے سے آگے بڑھ کر اپنا کام بھی مکمل کروا سکے گا۔
ٹیک کرنچ (TechCrunch) نے 2 نومبر کو اس ای میل کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ نیا تجربہ پہلے مرحلے میں منتخب صارفین کے لیے پیش کیا جائے گا، جن کی رائے کی روشنی میں اسے عام صارفین تک مرحلہ وار پہنچایا جائے گا۔ کمپنی نے عام دستیابی کی کوئی حتمی تاریخ ابھی ظاہر نہیں کی ہے۔
چیٹ سے کام تک، ایک ہی جگہ
اس وقت چیٹ جی پی ٹی کی ڈیسک ٹاپ ایپ میں کئی حصے موجود ہیں۔ ایک طرف چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس (Codex) الگ الگ حصے ہیں، اور چیٹ جی پی ٹی کے اندر بھی چیٹ اور ورک کے الگ الگ ٹیب (Tab) ہیں۔ اس تقسیم کے باعث صارفین کو کبھی کبھی یہ یاد رکھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان کا منصوبہ کہاں ہے اور کام کس ٹیب میں ہو رہا ہے۔
نئے تجربے میں یہ تقسیم ختم ہو جائے گی۔ صارف اپنی فائلیں اور پلگ ان (Plugins) اسی جگہ لا سکے گا، اور چیٹ جی پی ٹی سے ویب سائٹ بنانے، پریزنٹیشن تیار کرنے یا ویب پر کوئی کام کرنے کو کہہ سکے گا، جب کہ وہ خود اس کے کام کا جائزہ لیتا اور رہنمائی کرتا رہے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ بات چیت اور عملی کام کے درمیان ٹیب بدلنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
"اس سے آپ ایک خیال کی کھوج سے آگے بڑھ کر اسے ایک ہی جگہ مکمل کروا سکیں گے۔ آپ اپنی فائلیں اور پلگ ان لا سکتے ہیں اور چیٹ جی پی ٹی سے ویب سائٹ بنانے، پریزنٹیشن تیار کرنے یا ویب پر کام کروانے کو کہہ سکتے ہیں، جب کہ آپ اس کے کام کا جائزہ لیتے اور رہنمائی کرتے رہیں گے۔"
اوپن اے آئی کا صارفین کو ای میل، ٹیک کرنچ کے حوالے سے
واضح رہے کہ کوڈیکس ڈیسک ٹاپ ایپ میں الگ تجربہ ہی رہے گا۔ یہ حصہ بنیادی طور پر سافٹ ویئر تیار کرنے کے کام کے لیے ہے، اور اس کی علیحدہ حیثیت برقرار رہے گی۔ انضمام صرف چیٹ جی پی ٹی کے اندر چیٹ اور ورک تک محدود ہے۔
دسمبر سے ایک مشترکہ استعمال کی حد
اس تبدیلی کے ساتھ استعمال کی حد کا نظام بھی بدل رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق دسمبر سے چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس مشترکہ حد سے چلیں گے۔ پلس (Plus)، پرو (Pro) اور بزنس (Business) منصوبوں کے صارفین کی دونوں خدمات کا استعمال ایک ہی کھاتے سے شمار ہوگا۔
استعمال کی پیمائش اب پیغامات کی تعداد سے نہیں، بلکہ ٹوکن (Token) سے ہوگی۔ ٹوکن وہ چھوٹی اکائیاں ہیں جن میں ماڈل تحریر کو پڑھتا اور لکھتا ہے۔ منتخب ماڈل اور کام کی نوعیت کے لحاظ سے خرچ مختلف ہوگا، اور زیادہ مشکل کام زیادہ حد استعمال کرے گا۔
اس ضمن میں ایک رعایت بھی رکھی گئی ہے۔ انسٹنٹ چیٹ (Instant Chat) یعنی فوری جواب والی سہولت اس مشترکہ حد سے باہر رہے گی، اور اس پر مختصر سوالات پوچھنے سے حد خرچ نہیں ہوگی۔ صارفین اپنی بچی ہوئی حد اور دوبارہ مقرر ہونے کا وقت چیٹ جی پی ٹی کی سیٹنگز میں استعمال (Usage) کے حصے میں دیکھ سکیں گے۔
حد ختم ہونے کی صورت میں صارف کے پاس تین راستے ہوں گے: دوبارہ مقرر ہونے کا انتظار، زیادہ درجے کے منصوبے میں منتقلی، یا اضافی کریڈٹ کی خریداری جہاں یہ سہولت موجود ہو۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر صارفین کو پہلے کی نسبت زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا، تاہم اس نے دسمبر کی حتمی تاریخ اور ہر منصوبے کی ٹوکن حد ابھی ظاہر نہیں کی ہے۔
استعمال کی حد اور خرچ پر کیا اثر پڑے گا
عملی طور پر اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ کوڈنگ اور چیٹ کا خرچ اب ایک ہی حد میں سے پورا ہوگا۔ جو صارف دن کا بڑا حصہ کوڈیکس پر کوڈ لکھنے میں گزارے گا، اس کے پاس چیٹ جی پی ٹی پر طویل کام کے لیے کم حد بچے گی۔ اس کے برعکس، جو صارف صرف مختصر سوالات پوچھتا ہے، اس پر شاید ہی کوئی فرق پڑے۔
اس پس منظر میں 29 اکتوبر کا فیصلہ بھی اہم ہے۔ اس روز کمپنی نے پرو 100 (Pro 100) اور پرو 500 (Pro 500) منصوبوں کے لیے ورک اور کوڈیکس کی حد دوگنی کر دی تھی۔ رپورٹوں کے مطابق یہ اضافہ ان منصوبوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے کیا گیا تھا، اور اب دسمبر کا انضمام اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔
اسی لیے تجزیہ کار اس تبدیلی کو قیمتوں کے نظام میں ایک بڑا موڑ قرار دے رہے ہیں۔ دی ڈیکوڈر (The Decoder) کے تجزیے کے مطابق چیٹ اور ورک کا انضمام اس دور کے خاتمے کی علامت ہے جس میں صارف جتنی چاہے درخواستیں بھیج سکتا تھا، کیوں کہ اب ہر کام مشترکہ حد سے ناپا جائے گا۔
حریف کی چال اور پس منظر
اوپن اے آئی کا یہ قدم حریفوں کی روش پر بھی ہے۔ ستمبر میں اینتھروپک (Anthropic) نے اپنے معاون کلاڈ (Claude) کی چیٹ اور کوورک (Cowork) کی سہولتوں کو ایک ہی اسکرین پر ضم کر دیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی کمپنیاں اب چیٹ بوٹ کو محض جواب دینے والی سہولت سے آگے بڑھا کر کام مکمل کرنے والا ساتھی بنا رہی ہیں۔
یہ تبدیلی اچانک سامنے نہیں آئی ہے۔ 30 اکتوبر کو مصنوعات پر نظر رکھنے والے ٹیبور بلاہو (Tibor Blaho) نے چیٹ جی پی ٹی کے خریداری والے صفحے پر ایک سطر دیکھی تھی جس میں دسمبر سے چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس کی مشترکہ حد کا ذکر تھا۔ اس سے چند ماہ قبل، 2 اپریل 2026 کو، کمپنی نے رپورٹوں کے مطابق ٹوکن کی بنیاد پر قیمت کا نظام اپنایا تھا، اور وہی نظام اب اس انضمام کی بنیاد ہے۔
تاہم کئی سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔ ہر منصوبے کی ٹوکن حد کتنی ہوگی، دسمبر میں تبدیلی کس دن سے نافذ ہوگی، اور زیادہ استعمال کرنے والے صارفین پر اس کا اصل بوجھ کیا پڑے گا، یہ سب اس وقت واضح ہوگا جب دسمبر میں نئے ڈیش بورڈ سامنے آئیں گے۔
پاکستانی صارفین کے لیے اہمیت
پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس کا استعمال فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز، طلبہ اور چھوٹے کاروباروں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک ہی جگہ سوال سے کام تک پہنچنا ان صارفین کے لیے عملی سہولت ہو سکتا ہے جو گاہک کے لیے ویب سائٹ یا پریزنٹیشن تیار کرتے ہیں، کیوں کہ انھیں اب ہدایت اور عمل کے لیے الگ الگ ٹیبوں کے درمیان آنا جانا نہیں پڑے گا۔
دوسری جانب مشترکہ حد کا مطلب یہ بھی ہے کہ پاکستانی ڈویلپرز اور ٹیموں کو اپنے ماہانہ استعمال کی منصوبہ بندی زیادہ سوچ سمجھ کر کرنا ہوگی۔ کوڈنگ کا بھاری کام اور چیٹ پر طویل تحقیقی کام اب ایک ہی حد سے پورا ہوگا، اس لیے چھوٹی ٹیموں کے لیے یہ طے کرنا اہم ہو جائے گا کہ کون سا کام کس وقت کیا جائے۔ فوری سوالات کے لیے انسٹنٹ چیٹ کی رعایت اس منصوبہ بندی میں مدد دے سکتی ہے۔
فی الحال نیا تجربہ صرف منتخب صارفین تک پہنچ رہا ہے، اور کمپنی نے دسمبر کی حتمی تاریخ اور ہر منصوبے کی ٹوکن حد ابھی ظاہر نہیں کی ہے۔ عام صارفین کو اس تبدیلی کی اصل صورت آنے والے ہفتوں میں نظر آئے گی، جب یہ تجربہ مرحلہ وار ان تک پہنچے گا۔




