سان فرانسسکو، 5 نومبر 2026 (نیوز ڈیسک): اوبر (Uber) نے بتایا ہے کہ اس کے مصروف ترین ہفتے میں بھی اے آئی ایجنٹس کے ذریعے صرف چار سواریاں بک ہوئیں۔ کمپنی کی سہ ماہی آمدنی سے متعلق کانفرنس کال میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق، اسی ہفتے اوبر ایٹس (Uber Eats) پر اے آئی ایجنٹ سے صرف 500 آرڈر آئے، جب کہ دونوں پلیٹ فارمز پر کل سفر و آرڈر کی تعداد تقریباً 32 کروڑ تھی۔
یہ اعداد اس شور سے بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں جو گزشتہ ایک برس سے اے آئی ایجنٹس کے بارے میں بنایا جا رہا ہے۔
ایجنٹس کا شور اور حقیقت میں فرق
گزشتہ چند ماہ میں ذاتی اے آئی ایجنٹس کی نئی لہر نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ یہ ایجنٹس صرف سوالوں کے جواب نہیں دیتے، ان کے بارے میں دعویٰ یہ ہے کہ وہ صارف کی طرف سے کام بھی انجام دے سکتے ہیں۔ اسی دوڑ میں شامل نئے اسٹارٹ اپس میں انسٹنکٹ (Instinct) نمایاں ہے، جس کی مالیت حالیہ فنڈنگ کے دوران 10 ارب ڈالر (ایک ہزار کروڑ ڈالر) لگائی گئی۔ میٹا (Meta) کا اے آئی اسسٹنٹ میوز (Muse) گزشتہ ماہ ایپل (Apple) کے امریکی ایپ اسٹور پر پہلے نمبر پر رہا، اور میٹا کے مطابق اس کے صارفین کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اوپن اے آئی (OpenAI)، اینتھروپک (Anthropic)، گوگل (Google) اور ایکس اے آئی (xAI) بھی اپنے اپنے ایجنٹس پیش کر رہے ہیں۔
تاہم اوبر اور ڈور ڈیش (DoorDash) کے اعداد بتاتے ہیں کہ یہ ایجنٹس ابھی صارفین کی روزمرہ زندگی میں جگہ نہیں بنا سکے۔
اوبر کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں
اوبر کے چیف فنانشل آفیسر بالاجی کرشنامورتی (Balaji Krishnamurthy) نے بدھ کو وال اسٹریٹ (Wall Street) کے تجزیہ کاروں کو بتایا کہ اکتوبر کے ہالووین والے ہفتے میں کمپنی نے تقریباً 32 کروڑ سفر اور آرڈر مکمل کیے، مگر ان میں سے اے آئی ایجنٹ کے ذریعے بک ہونے والی سواریوں کی تعداد صرف چار تھی۔ اوبر ایٹس پر بھی ایجنٹ کے ذریعے آنے والے آرڈرز کی تعداد 500 سے آگے نہ بڑھ سکی۔
اوبر کے چیف ایگزیکٹو دارا خسروشاہی (Dara Khosrowshahi) نے خود ان اعداد کو ابتدائی مرحلہ قرار دیا۔
"ابھی یہ بہت ابتدائی مرحلہ ہے اور استعمال نہایت محدود ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آگے اس میں اضافہ ہوگا۔"
دارا خسروشاہی، چیف ایگزیکٹو، اوبر
خسروشاہی نے اس کی ایک عملی وجہ بھی بتائی۔ ان کے مطابق اوبر کی ایپ میں سواری بک کرنے میں اوسطاً صرف 50 سیکنڈ لگتے ہیں، اور پسندیدہ کھانا دوبارہ منگوانے میں 90 سیکنڈ۔ ایسی صورت میں اے آئی ایجنٹ صارف کا وقت بچانے کے بجائے ایک اضافی مرحلہ بن جاتا ہے۔
اس کے باوجود خسروشاہی ایجنٹس کے مستقبل کے بارے میں پرامید نظر آئے۔ انھوں نے کہا کہ ایجنٹس کے ذریعے صارفین کو اوبر کے پلیٹ فارم تک پہنچنے کا ایک اور راستہ ملے گا اور طلب کے لیے یہ پیش رفت مجموعی طور پر مثبت ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق مارکیٹ میں اس وقت تقریباً آٹھ بڑے اے آئی اسسٹنٹ موجود ہیں اور یہ تعداد دس سے زیادہ ہونے والی ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اے آئی نظام بنانے والی ہر بڑی کمپنی اوبر سے رابطے میں ہے۔
ڈور ڈیش کی کہانی بھی یہی ہے
ڈور ڈیش کی صورت حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ کمپنی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ٹونی شو (Tony Xu) نے گزشتہ ہفتے سہ ماہی آمدنی سے متعلق کانفرنس کال میں بتایا کہ بیرونی اے آئی ایجنٹس سے اب تک صرف کئی سو آرڈر آئے ہیں۔ انھوں نے اسے بہت کم استعمال قرار دیا۔ موازنے کے لیے، ڈور ڈیش نے 2026 کی تیسری سہ ماہی میں تقریباً ایک ارب آرڈر مکمل کیے۔
"کھانا منگوانا جیسا آسان کام ہو تو صارفین براہ راست ڈور ڈیش پر آتے ہیں۔"
ٹونی شو، چیف ایگزیکٹو، ڈور ڈیش
شو نے یہ بھی کہا کہ ایجنٹس ان خریداریوں میں زیادہ مددگار ثابت ہو سکتے ہیں جن میں طویل سوچ بچار درکار ہوتی ہے، جہاں ایجنٹ پس منظر میں رہ کر صارف کے لیے کام کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے معاملے میں کشش ثقل سے لڑنا نہیں چاہیے، مگر خود فریبی بھی نہیں کرنی چاہیے۔
ڈور ڈیش نے ایک ماہ سے بھی کم عرصہ قبل ماڈل کانٹیکسٹ پروٹوکول (Model Context Protocol) پر مبنی ایک کنیکٹر جاری کیا ہے، جس کے ذریعے بیرونی اے آئی ٹولز ڈور ڈیش سے براہ راست آرڈر کر سکتے ہیں۔ فی الحال یہ سہولت چند ابتدائی شراکت داروں تک محدود ہے اور زیادہ تر دفاتر کے لنچ کے آرڈرز کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اس سے قبل ایجنٹس کو ویب انٹرفیس کے ذریعے آرڈر کرنا پڑتا تھا۔
اس کے برعکس ڈور ڈیش کا اپنا اے آئی ٹول آسک ڈور ڈیش (Ask DoorDash) الگ تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ ٹول گرمیوں میں متعارف کرایا گیا تھا۔ یہ ترکیب کی تصویر سے خریداری کی ٹوکری بنا سکتا ہے اور چار افراد کے خاندان کے لیے رات کا کھانا جیسی مبہم ہدایت پر بھی آرڈر تجویز کر سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس ٹول سے ٹوکری پانچ گنا تیزی سے بنتی ہے، اوسط بل تقریباً 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے اور منفرد اشیا تقریباً 60 فیصد زیادہ ہوتی ہیں۔ تقریباً نصف آرڈر ایسی مقامی دکانوں سے آتے ہیں جو صارف نے پہلے کبھی نہیں آزمائیں۔
ایجنٹس ابھی کیوں پیچھے ہیں؟
اوبر اور ڈور ڈیش کے اعداد اتنے کم ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ کھانا منگوانا یا سواری بک کرنا پہلے ہی نہایت آسان کام ہے۔ جب ایپ خود چند سیکنڈ میں کام کر دے تو درمیان میں ایک ایجنٹ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
دوسری وجہ ایجنٹس کی موجودہ صلاحیت ہے۔ سیمی اینالیسس (SemiAnalysis) کے بینچ مارک کے مطابق بہترین اے آئی ایجنٹ بھی حقیقی دنیا کے کاموں میں صرف 12 فیصد اسکور کر سکا تھا۔ ایسے میں صارفین اہم کاموں کے لیے ایجنٹ پر بھروسا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
تیسری وجہ اعتماد اور ادائیگی کا معاملہ ہے۔ سواری یا کھانے کے آرڈر میں پیسے اور وقت دونوں شامل ہوتے ہیں، اور صارف اس وقت تک ایجنٹ کو یہ ذمے داری نہیں سونپتا جب تک اسے یقین نہ ہو کہ ایجنٹ غلطی نہیں کرے گا۔
پاکستان کے قارئین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے
پاکستانی صارفین کے لیے اس خبر میں ایک عملی سبق ہے۔ پاکستان میں بھی کھانا منگوانے اور سواری بک کرنے کی ایپس عام استعمال ہو رہی ہیں، اور مقامی ڈویلپرز اور فری لانسرز اے آئی ایجنٹس پر مبنی ایپس بنا رہے ہیں۔ اوبر اور ڈور ڈیش کے اعداد بتاتے ہیں کہ صارف صرف اسی صورت میں نئی ٹیکنالوجی اپناتا ہے جب وہ اس کا وقت یا پیسہ واضح طور پر بچائے۔ محض اے آئی کا لیبل کافی نہیں۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ پاکستانی ڈویلپرز کے لیے اصل موقع ان کاموں میں ہے جہاں ایجنٹ واقعی وقت بچا سکے، جیسے طویل تحقیق، دستاویزات کی تیاری یا پیچیدہ منصوبہ بندی، نہ کہ ان کاموں میں جو ایپ میں پہلے ہی چند سیکنڈ میں ہو جاتے ہیں۔
مجموعی طور پر اوبر اور ڈور ڈیش کے اعداد اے آئی ایجنٹس کے مستقبل کو رد نہیں کرتے، مگر یہ ضرور بتاتے ہیں کہ یہ مستقبل ابھی دور ہے۔ اس تناظر میں آرس ٹیکنیکا (Ars Technica) کی رپورٹ میں 1994 میں پیزا ہٹ (Pizza Hut) کی پہلی آن لائن آرڈرنگ کی مثال دی گئی ہے، جب آن لائن آرڈر محض ایک تجربہ تھا۔ آج پیزا ہٹ کے نصف سے زیادہ آرڈر آن لائن آتے ہیں۔




