سان فرانسسکو، 5 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): اوپن اے آئی (OpenAI) نے چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) میں تصویر سازی کے نئے ماڈل امیجز 2.6 (Images 2.6) کے ساتھ متحرک جی آئی ایف (GIF) بنانے کی سہولت متعارف کرا دی ہے۔ جی آئی ایف ایک مختصر متحرک تصویر ہوتی ہے جو بار بار چلتی ہے۔ اب صارف ایک تحریری ہدایت یا اپنی تصویر سے ایسی متحرک تصویر بنا سکے گا، اس کی رفتار بدل سکے گا اور ہر فریم میں الگ ترمیم کر سکے گا۔ کمپنی کے مطابق یہ سہولت چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس (Codex) میں ویب، ڈیسک ٹاپ اور موبائل پر تمام درجوں کے صارفین کے لیے 4 نومبر سے عالمی سطح پر جاری کی جا رہی ہے۔
دی ورج (The Verge) کی رپورٹ کے مطابق اس اپ ڈیٹ کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ متحرک تصویر بنانے کے لیے اب کسی الگ اوزار کی ضرورت نہیں رہے گی۔ صارف چیٹ جی پی ٹی کے اندر ہی تحریر لکھے گا یا تصویر اپ لوڈ کرے گا، اور ماڈل اسے مکمل متحرک تصویر بنا کر دے گا۔ کمپنی نے اپنی مثال میں ایک ناچتی ہوئی بلی کی متحرک تصویر پیش کی، جس میں ایک ہی کردار کی مختلف حرکتیں ایک سلسلے میں جوڑی گئی تھیں۔
"کسی تحریر یا تصویر کو متحرک جی آئی ایف میں بدلیں، اس کی رفتار طے کریں، ہر فریم میں ترمیم کریں اور اسے بار بار چلنے کے لیے شیئر کریں۔"
جی آئی ایف کیسے بنے گا
اس سے پہلے چیٹ جی پی ٹی میں ساکن تصاویر بنانا ممکن تھا، لیکن تصویر سے براہ راست جی آئی ایف بنانے کا کوئی ایک مرحلے والا راستہ موجود نہیں تھا۔ صارف کو متحرک تصویر کے لیے الگ اوزار استعمال کرنا پڑتے تھے۔ نئی سہولت نے اس خلا کو ختم کر دیا ہے۔ صارف اب صرف یہ بتائے گا کہ اسے کیسی حرکت چاہیے، یا وہ اپنی تصویر دے گا، اور ماڈل اسی بنیاد پر فریموں کا سلسلہ تیار کرے گا۔
تیاری کے بعد اصل کام ترمیم کا ہے۔ صارف متحرک تصویر کی رفتار کم یا زیادہ کر سکتا ہے، ہر فریم کو الگ الگ دیکھ سکتا ہے اور جس فریم میں خامی ہو، اسے الگ سے درست کر سکتا ہے۔ یوں پوری متحرک تصویر دوبارہ بنانے کے بجائے صرف ایک فریم بدلا جا سکے گا، اور تخلیق و ترمیم ایک ہی جگہ ہو جائے گی۔
ریفرنس تصاویر: ایک بار محفوظ، بار بار استعمال
امیجز 2.6 کی دوسری بڑی سہولت ریفرنس تصاویر کی ہے۔ صارف اپنے کسی کردار، پالتو جانور یا برانڈ کی تصویر ایک بار محفوظ کر سکے گا اور پھر ہر نئی تخلیق میں اسے دوبارہ اپ لوڈ کیے بغیر استعمال کر سکے گا۔ اوپن اے آئی نے اس سہولت کا نچوڑ ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
"ایک بار محفوظ کریں، بار بار تخلیق کریں۔"
اس سہولت کی اہمیت ان کاموں میں زیادہ ہے جہاں ایک ہی کردار یا شے بار بار سامنے آتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی کہانی کے خاکے میں ایک ہی کردار کی شکل ہر منظر میں ایک جیسی رہنی چاہیے، اور کسی تشہیری تصویر میں شے کی رنگت اور بناوٹ ہر بار ایک سی دکھنی چاہیے۔ ماضی میں ہر نئی ترمیم کے ساتھ کردار کی شکل بدل جانے کا خدشہ رہتا تھا۔ کمپنی کے مطابق محفوظ شدہ ریفرنس اس مسئلے کو کم کرے گا، کیوں کہ وہ ہر بار اصل شکل کی طرف لوٹنے کا مستقل حوالہ بن جائے گا۔
ڈویلپرز کے لیے دو نئے ماڈل: فلیئر اور سن برسٹ
عام صارفین کے لیے چیٹ جی پی ٹی میں یہ سہولت آئی ہے، جب کہ سافٹ ویئر تیار کرنے والوں کے لیے اوپن اے آئی نے اے پی آئی (API) کے ذریعے دو نئے ماڈل پیش کیے ہیں۔ ان کے نام جی پی ٹی امیج 2.6 فلیئر (GPT-Image-2.6 Flare) اور جی پی ٹی امیج 2.6 سن برسٹ (GPT-Image-2.6 Sunburst) ہیں۔ فلیئر کا مقصد رفتار ہے، اور کمپنی کی وضاحت کے مطابق کم معیار پر یہ محض چند سیکنڈ میں تصویر تیار کر سکتا ہے۔ اسے اشتہاری خاکوں اور تشہیری تصاویر جیسے کاموں کے لیے موزوں بتایا گیا ہے، جہاں بڑی تعداد میں تصاویر جلد چاہیے ہوتی ہیں۔
سن برسٹ کا رخ معیار اور تسلسل کی طرف ہے۔ کمپنی کے مطابق درمیانے یا اعلیٰ معیار پر اس ماڈل میں ایک ترمیم کے بعد دوسری ترمیم میں تفصیلات زیادہ مستقل رہتی ہیں۔ اسے ان کاموں کے لیے تجویز کیا گیا ہے جہاں تصویر کو کئی بار سنوارنا پڑتا ہے اور ہر بار اصل شکل برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ دونوں نئے ماڈل پہلے سے 50 فیصد تیز تصویر بناتے ہیں۔ اے پی آئی میں تصویر پر نشان لگانے کی سہولت بھی آئی ہے، جس سے ٹیم تصویر کے اسی حصے کی نشان دہی کر سکے گی جسے بدلنا ہو۔ اس کے ساتھ ایس وی جی (SVG) فارمیٹ میں برآمد کی سہولت بھی دی گئی ہے، تاکہ ڈیزائن ویب سائٹ، ایپ اور چھپائی کے کام میں براہ راست استعمال ہو سکے۔
تصویر سازی کی دوڑ میں نیا مرحلہ
یہ اپ ڈیٹ محض ایک نئی سہولت نہیں، بلکہ تصویر سازی کے میدان میں اوپن اے آئی کی مسلسل پیش رفت کی اگلی کڑی ہے۔ کمپنی نے 8 ستمبر 2026 کو امیجز 2.5 متعارف کرایا تھا، جس میں باریک تفصیلات، روشنی اور بناوٹ کی پیش کش بہتر کی گئی تھی اور حوالہ تصویر سے مشابہت برقرار رکھنے کی صلاحیت بڑھائی گئی تھی۔ اس وقت کمپنی نے بتایا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی اور اے پی آئی پر ہر ہفتے 300 کروڑ سے زیادہ تصاویر بنائی جا رہی ہیں۔ اب یہ تعداد 400 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
اعداد کا یہ فرق بتاتا ہے کہ تصویر سازی اب چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کا ایک بڑا حصہ بن چکی ہے۔ ساکن تصویر کے بعد متحرک تصویر کی طرف بڑھنا اسی رجحان کا قدرتی اگلا قدم ہے، کیوں کہ صارفین سوشل میڈیا اور اشتہارات کے لیے ایسی تصاویر چاہتے ہیں جو حرکت کریں اور توجہ کھینچیں۔ تصویر سازی کے اوزاروں میں مقابلہ بھی تیز ہو چکا ہے، اور اس ماحول میں جی آئی ایف کی سہولت صارف کو تصویر بنانے کے بعد وہیں رکے بغیر اسے متحرک شکل دینے کا راستہ دیتی ہے۔
پاکستانی صارفین کے لیے کیا معنی
چوں کہ یہ سہولت عالمی سطح پر تمام درجوں میں جاری کی گئی ہے، اس لیے پاکستانی صارفین کے لیے بھی اس کے عملی استعمال سامنے آ سکتے ہیں۔ فری لانسرز اور چھوٹے کاروبار اپنی مصنوعات کی تشہیری تصاویر کو متحرک شکل دے سکتے ہیں، اور سوشل میڈیا کے لیے مختصر متحرک مواد تیار کر سکتے ہیں۔ اساتذہ کسی سبق کی وضاحت کے لیے سادہ متحرک خاکے بنا سکتے ہیں، اور کہانی لکھنے والے اپنے کرداروں کو ایک ہی شکل میں بار بار استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کاموں میں ریفرنس تصاویر کی سہولت خاص طور پر مددگار ہو سکتی ہے، کیوں کہ ایک بار محفوظ کردہ کردار یا مصنوعات ہر نئی تصویر میں ایک جیسی رہے گی۔
تاہم کچھ حدود بھی ذہن میں رکھنی چاہییں۔ رپورٹس کے مطابق اکاؤنٹ کی موجودہ استعمال کی حدیں بدستور لاگو رہیں گی، اس لیے یہ سہولت لامحدود نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ متحرک تصاویر بنانا آسان ہونے سے یہ سوال بھی اٹھے گا کہ ترمیم شدہ تصویر اور اصل تصویر میں فرق کیسے پہچانا جائے۔ صارفین کے لیے یہ احتیاط ضروری رہے گی کہ وہ متحرک تصویر کو شیئر کرتے وقت اس کا سیاق واضح رکھیں، تاکہ کوئی ترمیم شدہ منظر اصل واقعے کے طور پر نہ سمجھا جائے۔ رپورٹس کے مطابق یہ سہولت مرحلہ وار جاری ہو رہی ہے، اس لیے کچھ صارفین کو یہ چند روز میں میسر آ سکتی ہے۔




