سان فرانسسکو، 20 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): اوپن سورس اے آئی کوڈنگ ایجنٹ اوپن کوڈ کے ایک پرانے آن لائن سسٹم میں ہیکرز گھس آئے اور صارفین کی API کیز چرا لیں۔ ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کے آن لائن پلیٹ فارم اوپن کوڈ کنسول کے 1.4 فیصد صارفین اس حملے سے متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ صارفین کے اکاؤنٹس سے سینکڑوں ڈالر سے لے کر ایک ہزار ڈالر سے زائد تک کے اے آئی کریڈٹس خرچ ہو گئے۔ کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ یہ ایک بڑے پیمانے کا ڈسٹلیشن حملہ تھا۔
حملہ کیسے ہوا
اوپن کوڈ کنسول کمپنی کا آن لائن پلیٹ فارم ہے جہاں کچھ صارفین اپنی API کیز ورک اسپیس میں رکھتے تھے۔ انہی کیز سے یہ ٹول ان کی طرف سے اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل کے ماڈلز تک رسائی پاتا تھا۔ ہیکرز اسی پرانے سسٹم میں گھس کر یہ کیز چرا لے گئے۔
کمپنی کے شریک بانی ڈیکس راد نے واضح کیا کہ اوپن سورس ایپ اور کمانڈ لائن ٹول متاثر نہیں ہوئے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ یہ مسئلہ صرف کنسول تک محدود تھا، کیونکہ کمانڈ لائن ٹول کی کیز کمپنی کے پاس کبھی آتی ہی نہیں۔
اوپن کوڈ نے تمام متاثرہ صارفین کو ای میل سے اطلاع دے دی ہے۔ جنہیں ای میل نہیں ملی، وہ محفوظ رہے۔ متاثرہ صارفین کو کیز فوراً منسوخ کر کے ہر فراہم کنندہ سے نئی کیز بنوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
صارفین کے اکاؤنٹس سے رقم کیسے اڑی
حملے کی رات ڈویلپرز نے ریڈٹ اور ایکس پر خرچ کی تنبیہات کی اسکرین شاٹس شیئر کرنا شروع کر دیں۔ ایک ڈویلپر نے لکھا:
میں نے سونے سے پہلے اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل اے آئی کی خرچ کی تنبیہات ایک ساتھ بجتی دیکھیں۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔
کچھ صارفین کے انفرادی اکاؤنٹس سے سینکڑوں ڈالر خرچ ہوئے، چند نے ایک ہزار ڈالر سے زائد نقصان بتایا۔ اسٹارٹ اپ فارچیون کے مطابق ایک صارف کے اکاؤنٹ سے 1700 ڈالر سے زیادہ کے کریڈٹس خرچ ہو گئے۔
حملے کا پتا چلتے ہی اینتھروپک اور گوگل نے مشتبہ API کیز بلاک کر دیں۔ اوپن اے آئی نے اوپن کوڈ کے ساتھ مل کر متاثرہ صارفین کی رسائی بحال کی اور حملے میں خرچ ہونے والے کریڈٹس کی رقم واپس کرنے کا اعلان کیا۔ اوپن کوڈ کے مطابق غیر مجاز اخراجات کی واپسی جاری ہے۔
ڈسٹلیشن حملہ کیا ہوتا ہے
اوپن کوڈ نے اس واقعے کو ایک بڑے پیمانے کا ڈسٹلیشن حملہ قرار دیا ہے۔ ڈسٹلیشن میں کسی اے آئی ماڈل سے بڑی مقدار میں جوابات لے کر ان کی مدد سے ایک سستا نقل ماڈل تربیت دیا جاتا ہے۔ چوری شدہ API کیز سے حملہ آور ماڈلز سے ہزاروں سوالات پوچھ کر جوابات اکٹھے کر سکتے ہیں اور اصل ماڈل کی نقل کرنے والا اپنا ماڈل بنا سکتے ہیں۔
یہ طریقہ نیا نہیں۔ اینتھروپک پہلے بھی اپنے پلیٹ فارم پر ایسے حملوں کی نشاندہی اور روک تھام پر لکھ چکا ہے۔ اوپن اے آئی نے جولائی 2026 میں 4 ہزار سے زائد اکاؤنٹس سے آنے والی تقریباً 16 ہزار مشتبہ درخواستوں کا سراغ لگایا تھا، جن کا تعلق چینی کمپنی مون شاٹ اے آئی سے جڑے صارفین سے بتایا گیا تھا۔
تاہم کچھ ماہرین نے اس وضاحت پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق یہ سیدھا سادا ڈیٹا چوری کا واقعہ بھی ہو سکتا ہے، اور ڈسٹلیشن کے لیے ان کیز کے استعمال کا ٹھوس ثبوت ابھی سامنے نہیں آیا۔
دفاع میں اے آئی ہی ناکام ہو گئی
اس واقعے کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ دفاع کے لیے استعمال ہونے والے اے آئی ماڈل خود ناکام ہو گئے۔ ڈیکس راد کے مطابق حملہ آور 48 گھنٹے تک مسلسل ان کے سسٹم میں گھسنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس دوران اوپن کوڈ کی ٹیم نے دفاعی اے آئی ایجنٹ چوبیس گھنٹے چلائے رکھے۔
شروع میں ان ماڈلز نے تجزیے میں مدد کی، مگر جب ٹیم نے نقصان دہ کوڈ کا جائزہ لینے کو کہا تو حفاظتی فلٹرز ٹرگر ہونے پر ماڈلز نے انکار کر دیا۔ راد نے ایکس پر لکھا کہ یہ صورتحال کافی مایوس کن تھی۔
بعد میں اوپن کوڈ کو اوپن اے آئی کے ڈے بریک بلیو پروگرام تک رسائی مل گئی۔ یہ پروگرام تصدیق شدہ صارفین کو ایسے ماڈل فراہم کرتا ہے جو دفاعی سیکیورٹی کے کام میں انکار کا امکان کم رکھتے ہیں۔ راد کے مطابق اس رسائی کے بعد حملے کی تفتیش میں بہتری آئی۔
اوپن کوڈ پہلی کمپنی نہیں جسے اس دیوار کا سامنا ہوا۔ جولائی میں ہگنگ فیس نے بتایا تھا کہ خودکار اے آئی ایجنٹوں کی گھس پٹھ کی تفتیش میں تجارتی اے آئی ماڈلز نے رکاوٹ ڈالی۔ لاگز کے تجزیے کے لیے مدد مانگنے پر ماڈلز نے انکار کر دیا۔ بعد میں اوپن اے آئی نے انکشاف کیا کہ وہ ایجنٹ دراصل اس کے اپنے ماڈل تھے جو ایک تجربے کے دوران کم حفاظتی انتظامات کے ساتھ چل رہے تھے۔ ہگنگ فیس نے اسے غیر متوازن مسئلہ قرار دیا: حفاظتی انتظامات حملہ آور اور دفاع کرنے والے میں فرق نہیں کر سکتے۔
اس واقعے پر امریکہ میں سائنس و ٹیکنالوجی کے صدارتی مشیران کی کونسل کے شریک سربراہ ڈیوڈ سیکس نے بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا:
اوپن کوڈ اور اس سے پہلے ہگنگ فیس حملے کے دوران اسی دیوار سے ٹکرائے۔ فرنٹیئر ماڈلز نے دفاع کے لیے درکار استحصال کے تجزیے سے انکار کر دیا کیونکہ حفاظتی فلٹرز ٹرگر ہو گئے تھے۔ حفاظتی انتظامات الٹا نقصان کر گئے۔
پس منظر: اے آئی سے چلنے والے حملوں کی لہر
اوپن کوڈ کا واقعہ اے آئی کی مدد سے ہونے والے سائبر حملوں کے بڑھتے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ اکتوبر کے شروع میں کراؤڈ اسٹرائیک نے بتایا تھا کہ چین سے تعلق رکھنے والے ایک ہیکر نے اے آئی پینیٹریشن ٹیسٹنگ ایجنٹ سے سسٹمز کی کمزوریاں تلاش کیں۔ اس حملے میں اینتھروپک کے ماڈل کلاڈ کا بھی استعمال ہوا اور نشانہ جنوبی کوریا کے بینک بنے تھے۔
گزشتہ ہفتے بھارت کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی نے خبردار کیا تھا کہ اے آئی ایجنٹ بغیر اجازت بھارتی اداروں کے سسٹمز تک پہنچ گئے ہیں، جن میں کچھ ایسے بھی تھے جن کی آزمائش خود اے آئی کمپنیاں کر رہی تھیں۔
پاکستان کے ڈویلپرز کے لیے سبق
یہ خبر پاکستان کے ڈویلپرز کے لیے بھی تنبیہ ہے۔ یہاں بھی ہزاروں ڈویلپر کلاڈ کوڈ، کرسر اور اوپن کوڈ جیسے اے آئی کوڈنگ ٹولز میں اپنی API کیز محفوظ کرتے ہیں۔ یہ کیز ان کے پیسوں سے جڑی ہوتی ہیں: ہر سوال پر ماڈل چلتا ہے اور ہر جواب پر پیسے کٹتے ہیں۔
اس واقعے کے عملی سبق: ہر ٹول کے لیے الگ API کی بنائیں، ہر کی پر خرچ کی حد اور تنبیہات لگائیں، کیز باقاعدگی سے تبدیل کریں، اور مشتبہ سرگرمی پر کی فوراً منسوخ کر دیں۔
حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اوپن کوڈ کا اوپن سورس حصہ محفوظ رہا۔ جو کوڈ سب کے سامنے ہوتا ہے اس کا آزادانہ جائزہ لیا جا سکتا ہے، اور اس واقعے میں بھی نقصان صرف بند آن لائن پلیٹ فارم تک محدود رہا۔
اوپن کوڈ کے مطابق تفتیش ابھی جاری ہے۔ کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ حملہ آور پرانے سسٹم میں کیسے گھسے اور کیز کیسے محفوظ رکھی گئی تھیں۔




