سان فرانسسکو، 18 اکتوبر 2026 (ویب ڈیسک): اے آئی کوڈنگ ٹولز کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ کوڈنگ پلیٹ فارم ریپلٹ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو امجد مسعد نے اعلان کیا ہے کہ اوپن اے آئی اب کمپنی کا ترجیحی شراکت دار ہوگا۔ ریپلٹ ایجنٹ میں چیٹ جی پی ٹی ڈیفالٹ ماڈل کے طور پر کام کرے گا۔ اس سے پہلے اس پلیٹ فارم کی بنیاد اینتھروپک کے کلاڈ ماڈلز پر تھی۔
امجد مسعد کے مطابق یہ فیصلہ تین وجوہات پر مبنی تھا۔ قیمت، شراکت داری اور کارکردگی۔ ان کا کہنا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی اب بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔ ریپلٹ اپنے اندرونی جانچ کے پیمانے کے ساتھ ایک عوامی بینچ مارک بھی شائع کرتا ہے۔ اس پیمانے پر اوپن اے آئی کے جی پی ٹی 6 خاندان کے دو ماڈل سول اور آسٹرا شامل تھے۔ دونوں نے صفر سے مکمل ایپلی کیشن بنانے کے کام میں مسلسل بہتر نتائج دیے۔
اسٹیج پر سخت لہجہ، بعد میں نرم وضاحت
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹیج پر امجد مسعد کا لہجہ کافی سخت تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریپلٹ اب اینتھروپک کے ساتھ کام نہیں کر رہا۔ لیکن تقریب کے بعد انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کی۔ ٹیک کرنچ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ریپلٹ اب بھی ماڈل کے انتخاب میں آزاد ہے۔ صارفین چاہیں تو کلاڈ یا کوئی اور ماڈل منتخب کر سکتے ہیں۔ اوپن اے آئی اب ریپلٹ ایجنٹ کے لیے ترجیحی شراکت دار ہے۔ اس کی وجہ بہتر کارکردگی، کم لاگت اور شراکت داری کی مضبوطی ہے۔
"میرے خیال میں چیٹ جی پی ٹی اب بہتر ہے۔ ہم ایک عوامی بینچ مارک بھی شائع کرتے ہیں، اور مسلسل سول اور آسٹرا صفر سے ایپلی کیشن بنانے میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔"
یہ بیان امجد مسعد نے ٹیک کرنچ ڈسرپٹ کے اسٹیج پر دیا۔ ان کے الفاظ سے لگا کہ اینتھروپک سے تعلق مکمل ختم ہو چکا ہے۔
مگر معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ اینتھروپک کے ساتھ شراکت داری سے واقف ذرائع نے ان کے دعوے کو مسترد کیا۔ ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شراکت داری اب بھی قائم ہے۔ ریپلٹ کی اپنی ویب سائٹ اور بلاگ بھی یہی بتاتے ہیں۔ ستمبر کے آخر میں ایک بلاگ پوسٹ میں اینتھروپک کے دو ماڈل درج تھے۔ کلاڈ فیبل 5 اور کلاڈ فیبل 5.1 ریپلٹ ایجنٹ کے پیداواری ماحول میں چل رہے تھے۔ دو اکتوبر کی اپ ڈیٹ میں دونوں کمپنیوں کے نئے ماڈل شامل تھے۔ میکس موڈ میں جی پی ٹی 6.1 سول اور پاور موڈ میں کلاڈ سونٹ 5.5۔ سولہ اکتوبر کی اپ ڈیٹ میں ایک اور اضافہ ہوا۔ کور اور پرو صارفین کے لیے پاور موڈ کے مینیو میں کلاڈ ہائیکو 5.5 بھی شامل کر دیا گیا۔
"ریپلٹ ماڈل کے انتخاب میں آزاد ہے۔ ہمارے صارفین اینتھروپک کا کلاڈ یا دیگر دستیاب ماڈل منتخب کر سکتے ہیں۔ اوپن اے آئی اب ریپلٹ ایجنٹ کو طاقت دینے والا ہمارا ترجیحی شراکت دار ہے۔"
یہ وضاحت امجد مسعد نے تقریب کے بعد ٹیک کرنچ کو دی۔ سترہ اکتوبر کو انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی یہی بات دہرائی۔ انہوں نے لکھا کہ اوپن اے آئی کے ماڈل عموماً زیادہ سستے ہیں۔
ڈیفالٹ کی جگہ سب سے قیمتی ہے
اس کہانی کا اصل سبق ڈیفالٹ کی اہمیت ہے۔ زیادہ تر صارفین ماڈل منتخب کرنے والا مینیو کھولتے ہی نہیں۔ جو ماڈل ڈیفالٹ ہوتا ہے، وہی زیادہ تر استعمال ہوتا ہے۔ اسی پر زیادہ تر خرچ بھی آتا ہے۔ اس لیے ڈیفالٹ کی جگہ حاصل کرنا ہر ماڈل بنانے والی کمپنی کے لیے سب سے بڑی جیت ہے۔
ریپلٹ کے لیے یہ تبدیلی بڑی ہے۔ اس سے پہلے کمپنی کلاڈ ماڈلز پر چلتی تھی۔ اس شراکت داری نے کمپنی کی آمدنی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ امجد مسعد نے اسٹیج پر بتایا کہ ریپلٹ حال ہی تک اینتھروپک کے پانچ بڑے صارفین میں شامل تھا۔ اب ڈیفالٹ کی تبدیلی سے اینتھروپک کے حصے کی آمدنی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
اگست میں ریپلٹ نے اوپن اے آئی کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت یہ واضح نہیں تھا کہ اینتھروپک سے تعلق ختم ہو رہا ہے۔ اب یہ تصویر صاف ہو گئی ہے۔ اوپن اے آئی کو ترجیح مل گئی ہے، مگر کلاڈ پلیٹ فارم پر دستیاب رہے گا۔
کاروباری ترقی کی نئی سمت
امجد مسعد نے اسٹیج پر کمپنی کی ترقی کے اعداد بھی بتائے۔ گزشتہ سال انٹرپرائز صارفین آمدنی کا صرف دو فیصد تھے۔ اس سال انٹرپرائز معاہدے آمدنی کا پندرہ فیصد بن چکے ہیں۔ کاروباری صارفین سے حاصل ہونے والی آمدنی پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ دو ہزار ستائیس میں انٹرپرائز اور سرکاری صارفین سے آمدنی کا نصف سے زیادہ حصہ آئے گا۔
انہوں نے اے آئی ایجنٹوں کی حفاظت پر بھی بات کی۔ ان کے الفاظ میں ایجنٹوں کو بھی انسانوں کی طرح مناسب ماحول چاہیے۔ اچھی ترتیب، خرابیوں سے نمٹنے کا نظام، حفاظت اور سلامتی، اور شناخت کا انتظام۔ جب یہ سب ٹھیک ہو جائے تو اے آئی کو محفوظ طریقے سے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
کوڈنگ ٹولز کی جنگ میں نیا موڑ
یہ خبر اے آئی کوڈنگ ٹولز کی جاری جنگ میں ایک نیا موڑ ہے۔ اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل کے درمیان ڈیولپرز کے دل جیتنے کی دوڑ جاری ہے۔ کلاڈ کوڈنگ کے کاموں میں دیر تک سب سے آگے سمجھا جاتا رہا۔ بہت سے ڈیولپر کلاڈ کو کوڈ لکھنے کے لیے بہترین ماڈل مانتے تھے۔ اب ریپلٹ جیسا بڑا پلیٹ فارم اوپن اے آئی کی طرف جھک گیا ہے۔
قیمت کا پہلو بھی اہم ہے۔ امجد مسعد نے خود کہا کہ اوپن اے آئی کے ماڈل عموماً سستے ہیں۔ جب لاکھوں صارفین روزانہ کوڈنگ کے کام کرواتے ہیں تو ہر ٹوکن کی قیمت فرق ڈالتی ہے۔ کارکردگی کے ساتھ ساتھ معیشت بھی فیصلوں کو بدل رہی ہے۔ یہ رجحان بتاتا ہے کہ اے آئی ماڈلز کی جنگ اب صرف ذہانت کی نہیں، قیمت کی بھی ہے۔
پاکستان کے ڈیولپرز کے لیے کیا مطلب ہے
پاکستان میں بھی ریپلٹ جیسے ٹولز تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ نوجوان ڈیولپر اور فری لانسر ان ٹولز سے بغیر بڑی ٹیم کے مکمل ایپلی کیشن بنا رہے ہیں۔ اسے وائب کوڈنگ کہا جاتا ہے۔ خیال کو الفاظ میں بیان کرو، اور اے آئی ایجنٹ کوڈ لکھ دے۔
ڈیفالٹ ماڈل کی تبدیلی کا اثر پاکستانی صارفین پر بھی پڑے گا۔ جو صارف ڈیفالٹ سیٹنگ پر کام کرتے ہیں، انہیں اب چیٹ جی پی ٹی ملے گا۔ اگر اوپن اے آئی کے ماڈل واقعی سستے ہیں تو فی کام کی لاگت کم ہو سکتی ہے۔ فری لانسرز کے لیے یہ اچھی خبر ہے۔ وہ ڈالر میں ادائیگی کرتے ہیں، اور ہر بچا ہوا سینٹ ان کے منافع میں اضافہ کرتا ہے۔
مگر ایک احتیاط بھی ضروری ہے۔ ماڈل کی تبدیلی سے کوڈ کے معیار میں فرق آ سکتا ہے۔ جو ڈیولپر کلاڈ کے انداز کے عادی ہیں، انہیں نئے ماڈل کے ساتھ تھوڑا وقت لگ سکتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ریپلٹ نے ماڈل منتخب کرنے کی آزادی برقرار رکھی ہے۔ جو صارف کلاڈ پر رہنا چاہے، وہ مینیو سے اسے منتخب کر سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایک اور سبق بھی دیتا ہے۔ اے آئی کی دنیا میں وفاداریاں جلدی بدلتی ہیں۔ آج جو ماڈل سب سے آگے ہے، کل کوئی اور اس کی جگہ لے سکتا ہے۔ ڈیولپرز کے لیے بہترین حکمت عملی یہی ہے کہ وہ کسی ایک ماڈل کے عادی نہ ہوں۔ ٹولز کو آزماتے رہیں، اور ہر کام کے لیے بہترین دستیاب ماڈل استعمال کریں۔ ریپلٹ کی کہانی بتاتی ہے کہ بڑی کمپنیاں بھی یہی کرتی ہیں۔ کارکردگی اور قیمت جس طرف ہوں، فیصلہ اسی طرف جاتا ہے۔




