سان فرانسسکو، 16 اکتوبر 2026 (نیوز ڈیسک): برقی گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی ریویان کی گاڑیوں میں مستقبل میں اینتھروپک جیسی بڑی کمپنیوں کے اے آئی ایجنٹ چل سکیں گے۔ کمپنی کے بانی اور سی ای او آر جے سکرینج نے سان فرانسسکو میں ٹیک کرنچ ڈسڑپٹ کانفرنس کے اسٹیج پر یہ اعلان کیا اور کہا کہ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں گاڑی کے ساتھ تجربہ واقعی جادوئی بن جائے گا۔
ریویان پہلے ہی اپنی گاڑیوں میں ایک اے آئی اسسٹنٹ دے چکی ہے جس سے ڈرائیور اور مسافر بول کر بات کرتے ہیں۔ اب اگلا قدم یہ ہے کہ گاڑی کے اندر صرف ریویان کا اپنا اسسٹنٹ نہیں بلکہ باہر کی بڑی اے آئی کمپنیوں کے ایجنٹ بھی کام کر سکیں۔ ٹیک کرنچ کے مطابق سکرینج نے اینتھروپک جیسی کمپنیوں کے اے آئی ایجنٹوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اگلا مرحلہ بڑی اے آئی کمپنیوں کی مصنوعات کو گاڑیوں سے جوڑنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کلاڈ، اوپن اے آئی یا میٹا میوز جیسے ایجنٹ بھی گاڑی کے سافٹ ویئر میں آ سکتے ہیں۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ جادوئی بن جاتا ہے۔
انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ خصوصیت کب متعارف ہوگی۔ کمپنی نے مزید تفصیلات دینے سے انکار کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ اس بارے میں دسمبر میں ہونے والی "اے آئی اینڈ آٹونومی ڈے" تقریب میں مزید بتایا جائے گا۔
ریویان کا اپنا ایجنٹ فریم ورک
ریویان نے اپنی گاڑیوں کا سافٹ ویئر شروع سے خود تیار کیا ہے۔ اس نے ایپل کار پلے یا اینڈرائیڈ آٹو پر انحصار کرنے کے بجائے اپنا نظام بنایا۔ کمپنی نے نیویگیشن جیسی اپنی ایپس تیار کی ہیں۔ البتہ ایپل میوزک جیسی مقبول ایپس کے ساتھ انضمام بھی کیا گیا ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس نے گاڑی کے اندر اپنا ایجنٹ فریم ورک تیار کیا ہے۔ یہ نظام ڈرائیور کی بات سن کر سمجھتا ہے کہ وہ کون سا عمل چاہتا ہے۔ پھر اسے گاڑی کے سافٹ ویئر کے درست حصے تک پہنچاتا ہے۔ یہ عام درخواستیں ہی ہوتی ہیں۔ گاڑی سے کہا جائے کہ درجہ حرارت کم کرے، سیٹ گرم کرنے والا نظام چالو کرے یا خبریں پڑھ کر سنائے۔
سکرینج نے اس نظام کی وضاحت ٹریفک لائٹ کی مثال سے کی۔ ان کے مطابق گاڑی ہر درخواست کے لیے خود فیصلہ کرتی ہے کہ کون سا ماڈل استعمال کرنا ہے۔
اس کو ٹریفک لائٹ کی طرح سمجھیں۔ جب آپ گاڑی سے کچھ پوچھتے ہیں تو وہ فیصلہ کرتی ہے کہ کون سا ماڈل استعمال کرنا ہے۔ گاڑی میں ہی چلنے والا مقامی ماڈل استعمال کر سکتی ہے۔ اگر سوال پیچیدہ ہو تو وہ کلاؤڈ سے رابطہ کر سکتی ہے۔ اور اس کے لیے بھی ہم مختلف ماڈل استعمال کرتے ہیں۔
رواں سال مئی میں ریویان کا ایجنٹ گوگل کیلنڈر جیسی بیرونی ایپس تک رسائی حاصل کر چکا تھا۔ اب اگلا مرحلہ بڑی اے آئی کمپنیوں کی مصنوعات جوڑنا ہے۔ تاہم سکرینج نے تسلیم کیا کہ یہ کام آسان نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے لیے پس پردہ بہت سا تکنیکی کام درکار ہے۔ یہ کام صرف ریویان کی طرف سے نہیں بلکہ لیبز کے ساتھ ہم آہنگی سے بھی ہوگا۔ لیبز کو بھی وہ رابطے ممکن بنانے ہوں گے۔
حفاظت کی سرحدیں طے
گاڑی میں بیرونی اے آئی ایجنٹ لگانے کا سب سے حساس پہلو حفاظت ہے۔ سکرینج نے واضح کیا کہ اس معاملے میں ایک سرخ لکیر کھینچی گئی ہے۔
آپ یہ نہیں چاہیں گے کہ کوئی ایجنٹ یہ فیصلہ کرے کہ اب بریک لگانے کا وقت ہے یا گاڑی موڑنے کا وقت ہے۔ اس لیے گاڑی کے بنیادی کنٹرول کسی ایجنٹ کے حوالے نہیں کیے جائیں گے۔
ان کے مطابق یہ ویسے ہی کام کرے گا جیسے لوگ آج یہ ایجنٹ ایپس استعمال کرتے ہیں۔ اس کے لیے ریویان کو گاڑی اور اس تمام سیاق و سباق کو جوڑنا ہوگا جو میٹا کے میوز جیسے اسسٹنٹ اپنے صارفین کے بارے میں جمع کرتے ہیں۔
سکرینج نے اس کی ایک مثال دی۔ ڈرائیور ریویان کے اسسٹنٹ سے کہے کہ ہوادار سیٹیں چالو کر دے۔ پھر اس سے پوچھے کہ ہم کل اس کھانے کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ جمعے کو مہمان آ رہے ہیں، بتاؤ کیا بنائیں؟ گاڑی پھر اس گفتگو کا سیاق کھینچ سکے گی جو ڈرائیور نے کسی دوسری ڈیوائس پر اسسٹنٹ کے ساتھ کی تھی۔
دسمبر کی تقریب اور ٹیسلا سے مقابلہ
ریویان نے دسمبر میں "اے آئی اینڈ آٹونومی ڈے" کے نام سے ایک تقریب کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس تقریب میں کمپنی اپنے اے آئی اور خودکار ڈرائیونگ کے منصوبوں کی تفصیلات پیش کرے گی۔ سکرینج کے اشارے سے لگتا ہے کہ تیسرے فریق کے ایجنٹوں کے بارے میں مزید معلومات اسی موقع پر سامنے آئیں گی۔
واضح رہے کہ ریویان اس میدان میں پہلی امریکی کار کمپنی نہیں ہوگی۔ رواں سال کے اوائل میں ٹیسلا نے اپنی گاڑیوں میں ایک خصوصیت شامل کی تھی۔ اس سے صارفین گروک چیٹ بوٹ اور گروک بوٹ اسسٹنٹ سے بات کر سکتے ہیں۔ تاہم ریویان کا منصوبہ اس سے آگے کا ہے۔ وہ صرف ایک چیٹ بوٹ نہیں بلکہ متعدد بیرونی ایجنٹوں کو گاڑی کے اندر لانا چاہتی ہے۔
ٹیک کرنچ ڈسڑپٹ 13 سے 15 اکتوبر تک سان فرانسسکو کے موسکون ویسٹ سینٹر میں ہوئی۔ اس میں دس ہزار سے زائد بانی، سرمایہ کار اور ٹیک رہنما شریک ہوئے۔ سکرینج کا یہ اعلان کانفرنس کے نمایاں لمحات میں سے ایک تھا۔
تجزیہ: گاڑی فون بننے کی راہ پر
ماہرین کے مطابق یہ اعلان گاڑیوں کی صنعت میں ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔ اب تک کار کا سافٹ ویئر ایک بند نظام تھا۔ اس میں صرف کمپنی کی اپنی ایپس چلتی تھیں۔ ریویان اس ماڈل کو توڑ کر گاڑی کو ایک کھلے پلیٹ فارم میں بدلنا چاہتی ہے۔ وہاں بہترین اے آئی ایجنٹ چل سکیں گے، چاہے وہ کسی بھی کمپنی کے ہوں۔
یہ وہی راستہ ہے جس پر اسمارٹ فون ایک دہائی پہلے چل چکے ہیں۔ پہلے فون میں صرف کمپنی کی اپنی ایپس ہوتی تھیں۔ پھر ایپ اسٹور آیا اور فون ایک پلیٹ فارم بن گیا۔ سکرینج بھی گاڑی کو ایسے ہی پلیٹ فارم میں بدلنا چاہتے ہیں۔ وہاں ڈرائیور اپنی پسند کا اے آئی ایجنٹ چن سکے گا۔
تاہم چیلنجز بھی کم نہیں۔ گاڑی میں انٹرنیٹ کی رفتار ایک مسئلہ ہے۔ ڈیٹا کی رازداری دوسرا مسئلہ ہے۔ مختلف کمپنیوں کے نظاموں کی ہم آہنگی تیسرا بڑا مسئلہ ہے۔ سب سے بڑھ کر حفاظت کا سوال ہے۔ سڑک پر ایک غلط کمانڈ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریویان گاڑی کے بنیادی کنٹرول ایجنٹوں سے دور رکھنا چاہتی ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستان میں برقی گاڑیوں کی مارکیٹ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ لیکن اے آئی اسسٹنٹ والی گاڑیوں کی یہ دوڑ یہاں بھی اثر ڈالے گی۔ مقامی اسمبلرز اور درآمد کنندگان آنے والے برسوں میں ایسی گاڑیاں لائیں گے جن میں بول کر کنٹرول کرنے والے اسسٹنٹ ہوں گے۔ اگر ان میں اردو زبان کی سپورٹ بھی شامل ہو جائے تو پاکستانی ڈرائیوروں کے لیے یہ ٹیکنالوجی واقعی کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ تیسرے فریق کے ایجنٹ کب ریویان کی گاڑیوں میں آئیں گے۔ لیکن سمت واضح ہے۔ گاڑی اب صرف چلانے کی چیز نہیں رہی۔ وہ ڈرائیور کا ذہین ساتھی بننے کی طرف بڑھ رہی ہے۔




