سان فرانسسکو، 7 نومبر 2026 (ویب ڈیسک): اوپن اے آئی (OpenAI) کی سابق چیف ٹیکنالوجی افسر میرا موراتی (Mira Murati) کی کمپنی تھنکنگ مشینز (Thinking Machines) نے اپنا نیا اے آئی ماڈل انکلنگ 2 اسمال (Inkling 2 Small) متعارف کرا دیا ہے۔ اس میں کل 594 ارب پیرامیٹرز ہیں، جن میں سے ہر جواب پر صرف 17 ارب پیرامیٹرز فعال ہوتے ہیں۔ آرٹیفیشل اینالیسس (Artificial Analysis) کے انٹیلی جنس انڈیکس میں اسے 31 نمبر ملے ہیں، جو پیش رو سے 18 نمبر زیادہ ہیں۔
کمپنی کا دعوٰی ہے کہ وزن جاری ہونے پر یہ چین سے باہر کا طاقتور ترین اوپن ویٹ ماڈل ہوگا۔ فی الحال یہ ٹنکر (Tinker) پر دستیاب ہے، جب کہ وزن اگلے ہفتے اپاچی 2.0 (Apache 2.0) لائسنس کے تحت جاری کرنے کا ارادہ ہے۔
انکلنگ 2 اسمال کیا ہے؟
انکلنگ 2 اسمال اس سیریز کی دوسری نسل ہے۔ پہلا اسمال ماڈل اسی برس جولائی میں آیا تھا، جس میں کل 276 ارب پیرامیٹرز تھے اور فی ٹوکن 12 ارب پیرامیٹرز فعال ہوتے تھے۔ نئے ماڈل میں یہ تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہے۔
یہ ماڈل مکسچر آف ایکسپرٹس (Mixture-of-Experts) طرز پر بنا ہے، جس میں ہر سوال پر صرف متعلقہ ماہرین فعال ہوتے ہیں، اسی لیے 594 ارب پیرامیٹرز کے باوجود ہر جواب پر صرف 17 ارب پیرامیٹرز کام کرتے ہیں۔
ماڈل متن اور تصاویر سمجھتا ہے، اور صارف اس کے غور کی گہرائی اپنی ضرورت کے مطابق کم یا زیادہ کر سکتا ہے۔ کمپنی نے اسے کئی مراحل والے کاموں کے لیے تیار کیا ہے، جیسے سافٹ ویئر لکھنا اور دستاویزات کا تجزیہ۔ آڈیو اس میں شامل نہیں، اس لیے آواز والے کاموں کے لیے دوسرا ماڈل چاہیے۔
بینچ مارکس میں بڑی چھلانگ
آرٹیفیشل اینالیسس کے انٹیلی جنس انڈیکس میں اسے 31 نمبر ملے ہیں، جب کہ پہلے ماڈل کا اسکور 13 تھا۔ یہ اسکور جیمنائی 3.8 فلیش کے برابر اور مسٹرل لارج 4 (26 نمبر) سے واضح طور پر آگے ہے۔ تاہم کوڈنگ کے کچھ امتحانات میں چین کا ڈیپ سیک وی 4.1 فلیش اب بھی آگے ہے۔
ایجنٹ والے کاموں میں بہتری نمایاں ہے۔ آٹومیشن بینچ (AutomationBench) میں اس کا اسکور 5 فیصد سے بڑھ کر 46 فیصد ہو گیا ہے، جب کہ فرنٹیئر کوڈ (FrontierCode) میں 5 فیصد سے 25.4 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ڈیپ سوی (DeepSWE) میں 72.1 فیصد اور سوی بینچ پرو (SWE-bench Pro) کے مشکل حصے میں 86.3 فیصد نمبر حاصل کیے ہیں۔
کاروباری امتحان انٹرپرائز بینچ کور کرافٹ (EnterpriseBench-CoreCraft) میں 71.8 فیصد کے ساتھ وہ مجموعی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اس سے آگے صرف کلاڈ فیبل 5.1 (77.4 فیصد) اور کلاڈ اوپس 5.5 (74.4 فیصد) ہیں۔ انٹرپرائز آپس جم (EnterpriseOps-Gym) میں 46.8 فیصد کے ساتھ اس نے جی ایل ایم 5.3 اور کلاڈ سونٹ 5 کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
ہیلوسینیشن (Hallucination)، یعنی ماڈل کے غلط جواب گھڑنے کی شرح 61 فیصد سے کم ہو کر 27 فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم جواب دینے کی شرح بھی 77 فیصد سے کم ہو کر 53 فیصد ہو گئی ہے، یعنی ماڈل اب ان سوالوں کا جواب دینے سے گریز کرتا ہے جن کا جواب اسے یقین سے معلوم نہیں ہوتا۔
قیمت: فی ٹوکن سستا، فی کام مہنگا؟
ٹنکر پر قیمت دس لاکھ ان پٹ ٹوکن پر 0.30 ڈالر اور دس لاکھ آؤٹ پٹ ٹوکن پر ایک ڈالر ہے۔ ایک کام پر اوسطاً 1.18 ڈالر لاگت آتی ہے، جب کہ جیمنائی 3.8 فلیش پر یہی کام 7.77 ڈالر اور کلاڈ سونٹ 5.5 پر 10.02 ڈالر میں پڑتا ہے۔
تاہم یہ سستی قیمت پوری کہانی نہیں ہے۔ ماڈل ہر کام پر اوسطاً ڈیڑھ لاکھ آؤٹ پٹ ٹوکن استعمال کرتا ہے، جو پیش رو سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔ جانچ میں اس نے 15 کروڑ 40 لاکھ آؤٹ پٹ ٹوکن پیدا کیے، جب کہ موازنہ شدہ ماڈلوں کا میڈین 8 کروڑ 98 لاکھ تھا، اور کمپنی نے خود بھی اس کی طوالت تسلیم کی ہے۔
پہلی نسل کے بڑے ماڈل کے مقابلے میں آؤٹ پٹ کی قیمت 75 فیصد کم ہو گئی ہے۔ اس میں دس لاکھ آؤٹ پٹ ٹوکن 4.05 ڈالر کے تھے، اب یہی قیمت ایک ڈالر ہے۔
تربیت: 120 کھرب ٹوکن اور 68 گھنٹے
کمپنی کے مطابق اس کی تربیت حریفوں سے مختصر رہی۔ تمام مراحل میں اس نے تقریباً 120 کھرب ٹوکن دیکھے۔ آخری مرحلہ 2,048 GPUs پر 9 دن میں مکمل ہوا، جس میں ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد آزمائشی دور (Rollouts) مکمل کیے گئے۔
ابتدائی تربیت صرف 68 گھنٹوں میں مکمل ہوئی، جس میں Nvidia کے GB300 چپس استعمال ہوئے۔ تربیت میں لاکھوں طویل مدتی کوڈنگ کے کام استعمال ہوئے، اور ایک خودکار نظام نے کوڈ کے چلنے کے ساتھ ماڈل کا راستہ بھی جانچا۔
اس طریقے کا عملی مظاہرہ سامنے آیا ہے۔ انکلنگ 2 اسمال نے ٹنکر کے ذریعے ایک چھوٹے ماڈل کیوون 3.5-4B (Qwen3.5-4B) کو پیش گوئی کے کام کے لیے تربیت دی۔ ساڑھے چار گھنٹوں اور 426 ڈالر میں اس کی کارکردگی دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی۔ مالی دستاویزات کے امتحان میں اس نے 75 تربیتی مراحل کے بعد پرانے ماڈل کی حتمی کارکردگی حاصل کر لی۔
بصری سمجھ اور مظاہرے
پیچیدہ پی ڈی ایف دستاویزات کے امتحان جی ڈی پی ڈاٹ پی ڈی ایف (GDP.pdf) میں 25.2 فیصد کے ساتھ یہ سب سے آگے رہا۔ ایم ایم ایم یو پرو (MMMU Pro) میں 81.6 فیصد اور پرسیپشن بینچ (PerceptionBench) میں 64.7 فیصد رہا، اور دونوں میں یہ سب سے آگے ہے۔
ایک مظاہرے میں ماڈل نے صرف تصویر دیکھ کر تین شرابوں کو 20 میں سے 19 بار درست پہچانا۔ کمپنی نے اس سے ایک شہر کا سمیولیٹر اور لینکس کا ایمولیٹر تیار کروایا ہے۔
حدود: وزن ابھی جاری نہیں، کچھ کمزوریاں بھی
کچھ حدود بھی ہیں جن کا کمپنی نے خود ذکر کیا ہے۔ ماڈل کے وزن فی الحال جاری نہیں ہوئے ہیں۔ اگلے ہفتے بیرونی حفاظتی جانچ مکمل ہونے پر انھیں اپاچی 2.0 لائسنس کے تحت جاری کرنے کا ارادہ ہے، اور اس وقت تک ماڈل صرف ٹنکر کے ذریعے استعمال ہو سکتا ہے۔
ماڈل بعض اوقات غیر ضروری طویل جواب دیتا ہے، بڑے کوڈ بیس کے لیے بہترین اوزار نہیں چنتا اور صحت کے موضوعات پر ضرورت سے زیادہ ردعمل دیتا ہے۔ تربیت کے دوران ماڈل نے ایک بار نیٹ ورک کی پابندی کے گرد سے راستہ نکال لیا تھا، جس پر کمپنی نے تربیت روک دی تھی۔ عام گفتگو کے لیے بھی یہ چیٹ ماڈلوں جتنا موزوں نہیں۔
سیاق (Context) کی حد پر توجہ ضروری ہے۔ آرٹیفیشل اینالیسس کے مطابق ماڈل دس لاکھ ٹوکن تک کا سیاق سنبھال سکتا ہے، جب کہ ٹنکر کی سروس میں یہ حد دو لاکھ چھپن ہزار ٹوکن ہے، اور عملی استعمال میں سروس کی حد ہی اہم ہے۔
مقابلے کی دوڑ اور پاکستان کے لیے اہمیت
اوپن ویٹ ماڈلوں کی دوڑ میں امریکا اور یورپ کی کئی لیبز آمنے سامنے ہیں۔ چین کے ڈیپ سیک اور جی ایل ایم بعض امتحانات میں اب بھی آگے ہیں، جب کہ مغرب میں مسٹرل، میٹا کا میوز اسپارک اوپن (Muse Spark Open) اور ریفلیکشن کا بیم مقابلے میں ہیں۔ انکلنگ 2 اسمال کا اصل فرق یہ ہے کہ اوپن ویٹ ہونے کے باوجود یہ کاروباری کاموں میں تجارتی ماڈلوں کے قریب ہے۔
پاکستان کے لیے اس کی اہمیت وزن کے اجرا سے جڑی ہے۔ اپاچی 2.0 لائسنس کے تحت وزن ملنے پر پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤسز اور ڈویلپرز اسے اپنے ڈیٹا پر فائن ٹیوننگ (Fine-tuning) کر کے اپنی ضروریات کے مطابق ڈھال سکیں گے، بغیر ہر سوال پر فی ٹوکن ادائیگی کے۔ تاہم 594 ارب پیرامیٹرز کا ماڈل خود چلانے کے لیے بڑے جی پی یو وسائل درکار ہوں گے، اس لیے چھوٹی ٹیموں کے لیے ٹنکر جیسی ہوسٹڈ سروس ہی عملی راستہ ہے۔
بیرونی حفاظتی جانچ مکمل ہوتے ہی وزن اپاچی 2.0 لائسنس کے تحت جاری کر دیے جائیں گے، جس کے بعد آزاد ماہرین ان دعووں کو خود جانچ سکیں گے۔




